ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / خشک سالی کے سبب ہمپی اتسو منسوخ، میکے ڈاٹ منصوبے پر مرکز کا فیصلہ خوش آئند: ڈی کے شیوکمار

خشک سالی کے سبب ہمپی اتسو منسوخ، میکے ڈاٹ منصوبے پر مرکز کا فیصلہ خوش آئند: ڈی کے شیوکمار

Wed, 28 Nov 2018 11:01:18    S.O. News Service

بنگلورو،28؍نومبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے 100 سے زائد تعلقہ جات میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار ہمپی اتسو نہیں منایا جائے گا۔ یہ اعلان آج وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خشک سالی کی جو صورتحال درپیش ہے یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایسے حالات موسم گرماتک برقرار رہیں گے۔ اسی لئے ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمپی اتسو کے نام پر رقم خرچ نہ کی جائے بلکہ اس رقم کا استعمال خشک سالی کے متاثرین کی باز آباد کاری پر کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں منعقدہ میٹنگ میں طے کیاگیا کہ امسال ہمپی اتسو شاندار پیمانے پر نہ منایا جائے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے مجوزہ میکے ڈاٹ منصوبے کو مرکزی حکومت کی طرف سے منظور کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ فوری طور پر حکومت اس پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرے گی۔ ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ اس پراجکٹ پر تملناڈو کا اعتراض غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ میکے ڈاٹ پراجکٹ کو اس طرح تیار کیا جائے گا کہ اس سے تملناڈو کے حصے پانی میں کوئی کمی واقع نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجکٹ کو مرکزی حکومت کی منظوری ملنے کے بعد بھی ریاستی حکومت کا منشا ہے کہ تملناڈو کے ساتھ باہمی بات چیت کے ذریعے اسے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کاویری مسئلے پر اگر حکومت تملناڈومدعو کرے تو وہ خود بات چیت کے لئے جانے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پینے کا پانی عوام کی بنیادی ضرورت ہے ، اسے ریاستیں اگر وقار کا مسئلہ نہ بنائیں تو دونوں طرف کے عوام کو کافی فائدہ ہوگا۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ مرکزی آبی کمیشن نے کرناٹک کو جو منظوری دی ہے اس سلسلے میں وہ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی سے تبادلۂ خیال کریں گے اور انہیں میکے ڈاٹ منصوبے کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں گے۔ اس سلسلے میں کمار سوامی نے 6 دسمبر کو میٹنگ طلب کی ہے جس میں سابق وزرائے اعلیٰ ، وزیر آبی وسائل ، ماہرین قانون اور دیگر مدعو کئے گئے ہیں۔


Share: